تبلیغی جماعت پر ایک اعتراض بہت زیادہ کیا جاتا ہے کہ وہ جہاد کی آیات کو اپنے تبلیغی اسفار کی تائید میں پیش کرتے ہیں اس کا جواب شیخ الحدیثؒ نے تفصیلا دیا ہے اس میں سے کچھ تکڑے ہم پیش کرتے ہیں
شیخ الحدیثؒ: تبلیغ والے جہاد کی احادیث کو اپنے تبلیغی اسفار کی تائید
میں پیش کرتے ہیں اور تعجب اس پر ہے کہ یہ اشکال عوام کی بجائے اہل علم کی طرف سے
زیادہ آیا،اہل علم کی طرف سے اس قسم کے اشکالات کا وارد ہونا زیادہ موجب تعجب ہے۔ اس
لئے کہ جہاد کے اسفار میں قتال اگر چہ عرفاً زیادہ معروف ہے لیکن ےلغت اور نصوص
جہاد کو قتال کے ساتھ مخصوص نہیں کرتے،اصل جہاد اعلاء کلمۃ اللہ کی سعی ہے جس کا
درجۂ مجبوری اور آخری درجہ قتال بھی ہے،قتال اصل مقصود نہیں بدرجۂ مجبوری ہے۔ (جماعتِ تبلیغ پر اعتراضات کے جوابات ص ۲ )
No comments:
Post a Comment