تبلیغی جماعت کے بعض
ساتھیوں سے جو بعض کوتاہیاں بعض مرتبہ ہوتی ہے اس پر اکابرین جو تنبیہ کرتے ہیں اس
کے ذریعہ فتنہ پرور لوگ اور جماعت کے مخالف اس کو ان اکابرین کی تبلیغ سے مخالفت
ثابت کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے، اسی سلسہ میں حضرت اقدس
شیخ الحدیثؒ کی کتاب جماعتِ تبلیغ پر اعتراضات کے جوابات سے ایک اقتباس پیشِ خدمت
ہے:
شیخ الحدیثؒ فرماتے ہیں
"جماعتِ تبلیغ پر اکابر کی طرف سے جو بعض موقعوں پر بعض جزوی
تنبیہات ہوئی ہیں ان کی وجہ سے ان اکابر کو جماعتِ تبلیغ کا مخالف قرار دے کر اب
ہوا دی جارہی ہے، اسی طرح ناکارہ( یعنی شیخ الحدیث) کی طرف سے کسی تنبیہ سے کوئی
غلط فائدہ نہ اٹھایا جائے اس لئے کہ میں بھی تبلیغی جماعت اور کارکنوں کی کوتاہیوں
پر تنبیہات کرتا رہتا ہوں ۔۔۔۔۔ یقیناً میرے بہت سے خطوط میں تنبیہیں،نکیریں اور
اعتراضات ملیں گے ۔۔۔ کسی بڑے شخص کے
متعلق میرے پاس کوئی مشخص شکایت پہنچی تو میں نے اس پر نکیر اور تنبیہ میں بھی
کبھی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔ اسلئے مجھے بھی
خیال ہوا کہ میرا کوئی تنبیہی اور نکیری خط کسی کے پاس ہو اور میرے بعد
تبلیغ کے کسی مخالف نے اسے شائع کیا اور اس کو میری مخالفت تبلیغ پر حمل کیا تو
یقیناً غلط ہوگا،میں اس مبارک کام کو اس زمانہ میں بہت اہم اور بہت ضروری سمجھ رہا
ہوں۔۔۔۔"
(جماعتِ تبلیغ پر اعتراضات کے جوابات ص ۲،۱ )
No comments:
Post a Comment